Kisanworld Urdu Blogs

گاجر کی جدید کاشت — مکمل معلومات اور بہترین پیداوار کے راز ( gajar ki jadeed kasht guide )

گاجر کی جدید کاشت کا مکمل طریقہ جانیں — موزوں آب و ہوا، زمین کی تیاری، بہترین وقت کاشت، کھادوں کا صحیح تناسب، آبپاشی اور زیادہ پیداوار کے تمام راز۔

گاجر کی فصل اور مہارانی ورائٹی کی جدید کاشت  ( gajar ki jadeed kasht guide )

تعارف

اگرچہ گاجر کا آبائی وطن افغانستان ہے لیکن یہ پوری دنیا میں کاشت کی جاتی ہے۔ گاجر موسم سرما  (  winter )کی ایک مقبول اور غذائیت سے بھرپور سبزی ہے۔ علاوہ ازیں اس کا سلاد، اچار اور حلوہ بھی مقبولِ عام ہے۔ اس کا جوس وٹامن اے( Vitamin A ) کا بہترین ذریعہ ہے۔ غذائی اہمیت کے پیش نظر اسے غریبوں کا سیب بھی کہا جاتا ہے۔ زمیندار گاجر کی جدید کاشت کے جدید پیداواری عوامل اپنا کر نہ صرف عوام کو سستی گاجر فراہم کر سکتے ہیں بلکہ اپنی آمدنی میں بھی خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں۔

آب و ہوا

گاجر سرد آب و ہوا کی فصل ہے لہٰذا بیج کے اگاؤ کیلئے 7 تا 24 ڈگری سینٹی گریڈ مثالی درجہ حرارت ہے۔ 20 تا 25 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ سے زیادہ پیداوار اور اچھی گاجر لینے کیلئے انتہائی موزوں ہے۔ زیادہ درجہ حرارت پر گاجر سائز میں چھوٹی رہ جاتی ہے۔

زمین کا انتخاب

گاجر ہر قسم کی زمین میں کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے لیکن اچھی پیداوار کیلئے میرا زمین اور اگیتی پیداوار کیلئے ریتلی میرا زمین درکار ہوتی ہے۔ اچھی کوالٹی کی گاجر اور زیادہ پیداوار کیلئے میرا زمین ہی موزوں ہے۔

گاجر کی اقسام

مارکیٹ میں گاجر کی بے شمار لوکل اور امپورٹڈ اقسام دستیاب ہیں۔ کسان ورلڈ مارکیٹنگ لاہور کے پلیٹ فارم پر بھی امپورٹڈ گاجر کی شاندار ورائٹی "مہارانی" پورے پاکستان میں کاشت کیلئے یکساں موزوں اور اپنی منفرد خوبیوں کی بدولت انتہائی منافع بخش ہے۔

بوائی کے بعد صرف 80 سے 90 دنوں میں تیار ہو جاتی ہے
اوسط لمبائی 25 سے 30 سینٹی میٹر اور موٹائی 8 سے 10 انچ کے لگ بھگ
باہر سے انتہائی سرخ، نرم اور رس دار
ہر گاجر مٹھاس اور سائز میں یکساں
بیماریوں اور جڑوں کے بالوں سے محفوظ
کوالٹی میں سب سے بہترین ہونے کی بدولت منڈیوں میں عام اقسام سے زیادہ قیمت
سب سے زیادہ پیداوار اور سب سے زیادہ ریٹ کی وجہ سے کسانوں کی پسندیدہ، اور زیادہ مٹھاس، زیادہ لمبائی اور زیادہ جوس کی وجہ سے عوام میں مقبول

کسانوں کی پسندیدہ گاجر کی ورائٹی مہارانی کا بیج منگوانے کیلئے آپ کسی بھی وقت واٹس ایپ نمبر 03226780242 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

وقت کاشت

گاجر کی کاشت کا بہترین وقت ستمبر اکتوبر ہے تاہم ستمبر کا پورا مہینہ پنجاب میں گاجر کی کاشت کیلئے نہایت موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ کسان ورلڈ مارکیٹنگ کے پلیٹ فارم پر دستیاب گاجر کی امپورٹڈ ورائٹی مہارانی ستمبر، اکتوبر اور نومبر میں بھی کاشت کی جا سکتی ہے۔ بوائی سے پہلے اگر بیج 12 گھنٹے پانی میں بھگو لیا جائے تو شرح اگاؤ میں اضافہ ممکن ہے۔

شرح بیج

بیج ایک ایسا نقطہ آغاز ہے جس کے سامنے تمام دوسرے عوامل ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر بیج غیر معیاری ہے تو کسی صورت بھی شاندار پیداوار حاصل نہیں ہو سکتی، لہٰذا ہمیشہ اچھی ورائٹی کا صحت مند اور زیادہ روئیدگی والا بیج جو جڑی بوٹیوں سے پاک و صاف ہو استعمال کریں۔ 8 سے 10 کلوگرام بیج ایک ایکڑ کیلئے کافی ہوتا ہے۔ بیج کو ہمیشہ مناسب پھپھوند کش زہر لگا کر کاشت کریں۔ اگیتی اور پچھیتی کاشت کی صورت میں شرح بیج 10 کلوگرام فی ایکڑ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

زمین کی تیاری

گاجر لمبی جڑ والی فصل ہے۔ اگر زمین اچھی طرح تیار نہ ہو اور اس میں مٹی کے ڈلے اور گوبر کی کچی کھاد موجود ہو تو گاجر کی شکل اور رنگت پوری طرح نشو و نما نہیں پاتی، لہٰذا زمین خوب گہرائی تک نرم اور بھربھری ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے وتر حالت میں زمین کو 3 تا 4 مرتبہ گہرا ہل چلا کر اور سہاگہ دے کر اچھی طرح تیار کر لیا جائے۔ زمین کی تیاری سے قبل داب سٹم کے ذریعہ جڑی بوٹیوں کی تلفی فصل پر بہت مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ کاشت سے قبل کیمیائی زہروں سے بھی جڑی بوٹیوں کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔

کھادوں کا استعمال

نائٹروجنی کھادوں کا زیادہ استعمال گاجر کی کوالٹی خراب کر دیتا ہے۔ زمین کی تیاری کے دوران آدھا بیگ یا 1 بیگ ڈی اے پی، 1 بیگ ہائبرڈ مکا پوٹاش، 2 بیگ مارک6 کھاد، 2 بیگ بی او پی بمسی، 1 بیگ سلفر کوٹڈ نائٹروفاس تیزابی اور 10 کلوگرام ترکیہ سے امپورٹڈ اعلیٰ کوالٹی سلفر سلفوتار پلس زمین میں ملا کر زمین تیار کر کے فصل کاشت کر دیں۔ کاشت کے ایک ماہ بعد آدھا بیگ یوریا ڈال دیں۔

طریقہ کاشت و آبپاشی

اچھی طرح نرم، ہموار اور تیار شدہ زمین میں 75 سینٹی میٹر یعنی اڑھائی فٹ کے فاصلے پر پٹڑیاں بنا کر دونوں کناروں پر ایک سینٹی میٹر گہری لائنوں میں بیج کیرا کر کے مٹی سے ڈھانپ دیں اور فوراً پانی اس طرح لگائیں کہ پانی پٹڑیوں پر ہرگز نہ چڑھنے پائے۔ شروع میں ہفتہ میں دو بار آبپاشی کرنے سے اگاؤ بہتر ہوتا ہے۔ بعد میں فصل کی ضرورت کے مطابق پانی کا وقفہ بڑھاتے جائیں لیکن ہفتہ وار آبپاشی بہتر رہتی ہے۔ گاجر کی برداشت سے دو ہفتہ قبل پانی بند کر دیں تاکہ گاجر کی مٹھاس بڑھ جائے اور انہیں اکھاڑنے میں بھی سہولت ہو۔

چھدرائی

گاجر کی بہتر کوالٹی حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ گاجر کی بروقت چھدرائی کی جائے۔ چھدرائی اس طرح کریں کہ پودوں کا درمیانی فاصلہ 2 تا 3 سینٹی میٹر رہے۔ چھدرائی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ پودے جڑوں سمیت نکلیں۔ بہت زیادہ بڑھوتری والے اور کمزور پودے بھی نکال دیں۔

جڑی بوٹیوں کا تدارک

اعلیٰ کوالٹی اور اچھی پیداوار کے حصول کیلئے جڑی بوٹیوں کا کنٹرول اشد ضروری ہے۔ بوائی کے بعد 2 سے 6 ہفتے کے اندر اندر جڑی بوٹیوں کا تدارک پیداوار پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس کے بعد فصل خود ہی جڑی بوٹیوں پر قابو پا لیتی ہے۔ گاجر کی فصل میں محکمہ زراعت (توسیع) کے مقامی عملہ کے مشورہ سے مناسب جڑی بوٹی مار زہر سپرے کرنے سے جڑی بوٹیوں کا کامیاب تدارک ممکن ہے۔ اگر گاجر کی کاشت کے 24 گھنٹوں کے اندر اندر پینڈی میتھالین کا سپرے کر دیا جائے تو جڑی بوٹیاں نہیں اگیں گی۔

برداشت

تقریباً 80 سے 90 دن بعد جب اس کی موٹائی 2 تا 4 سینٹی میٹر ہو جائے تو گاجر برداشت کر لیں۔ گاجر برداشت کرنے سے دو ہفتے قبل آبپاشی بند کر دیں تاکہ زمین وتر حالت میں ہو جائے اور گاجریں اکھاڑنے میں مشکل نہ ہو۔



اگر آپ گاجر کی جدید ورائٹی مہارانی کا بیج یا مضمون میں ذکر کردہ کھادیں (مارک6، ہائبرڈ مکا پوٹاش، سلفوتار پلس) منگوانا چاہتے ہیں تو واٹس ایپ نمبر 03226780242 پر رابطہ کریں۔

Keep reading

Related articles