(Canola, Sarsoon aur Raya ki jadeed kasht ka mukammal fertilizer plan, bemariyon ka control aur record paidawar hasil karne ka tareeqa — is article mein mukammal maloomat.)
دور حاضر میں جہاں دیگر اجناس کی بہت اہمیت ہے وہاں ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا بھی بہت ہی اہم نقد آور فصلیں بن کر سامنے آ رہی ہیں۔ یہ نہ صرف غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ خوردنی تیل کا مآخذ بھی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے گندم کو انتہائی کم ریٹ لگنے کی وجہ سے تیل دار اجناس کی اہمیت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اس مضمون میں ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کی پیداواری ٹیکنالوجی اور ریکارڈ پیداوار کے حصول کیلئے فرٹیلائزر پلان دیا جا رہا ہے جس پر عمل کر کے ہمارے کاشتکار اور زمیندار بھائی ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کی شاندار فصل حاصل کر کے گندم سے کئی گنا زیادہ منافع کما سکتے ہیں۔
زمین کا انتخاب
ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کیلئے میرا اور بھاری میرا زمین کو موزوں تصور کیا جاتا ہے۔ ریتلی، سیم و تھور زدہ اور کلراٹھی زمینیں ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کی کاشت کیلئے مناسب نہیں تاہم اگر زمین زیادہ کلراٹھی نہیں ہے تو اس میں 3 سے 4 بیگ فی ایکڑ مارک6 کھاد ڈال کر ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کی شاندار پیداوار لی جا سکتی ہے۔
زمین کی تیاری
زمین کی تیاری کیلئے دو سے تین مرتبہ ہل چلا کر سہاگہ پھیر کر زمین کو بوائی کیلئے تیار کر لیں۔ بارانی علاقوں میں ہل چلا کر زمین کو چھوڑ دیں اور بارش ہونے کے بعد ہل اور سہاگہ پھیر کر نمی محفوظ کر لیں۔
وقتِ کاشت
- خیبر پختونخوا اور بالائی پنجاب: یکم اکتوبر تا آخرِ اکتوبر
- بالائی سندھ اور زیریں پنجاب: 15 ستمبر تا 30 اکتوبر
- زیریں سندھ: ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کا وقتِ کاشت
- پچھیتی کاشت 15 نومبر تک کی جا سکتی ہے
کاشتکار حضرات تجویز کردہ وقت میں اپنے علاقے کی موسمی صورتحال کے مطابق تبدیلی کر سکتے ہیں۔
شرحِ بیج
شرحِ بیج کا انحصار بہت سی وجوہات پر ہوتا ہے جیسا کہ بیج لگانے کا طریقہ، زمین اور موسمی صورتحال وغیرہ۔ عموماً ہائبرڈ کینولہ، ہائبرڈ سرسوں، ہائی کراس سرسوں، سپر رایا، آری کینولہ، یو-اے-ایف 11 کی شرحِ بیج 2 کلوگرام فی ایکڑ ہے۔
طریقہ کاشت
اچھی فصل اور زیادہ پیداوار کیلئے بیج کو لائنوں میں کاشت کیا جائے اور کاشت بذریعہ ڈرل کی جائے۔ ڈرل کاشت کی صورت میں لائن سے لائن کا فاصلہ ڈیڑھ فٹ اور پودے سے پودے کا فاصلہ 5 سے 6 انچ ہونا چاہیے۔ اکثر علاقوں میں اسے بذریعہ چھٹہ بھی کاشت کیا جاتا ہے لیکن کلراٹھی زمینوں میں ڈیڑھ سے دو فٹ کی کھیلیوں یا 3 سے 4 فٹ کے بیڈز پر کاشت زیادہ بہتر رہتی ہے جس میں آبپاشی صرف کھیلیوں کے اندر کی جائے، پانی کھیلیوں یا بیڈز کے اوپر نہ چڑھایا جائے۔
بیج کی گہرائی
بیج کی گہرائی دو سے اڑھائی انچ رکھیں اور اچھے وتر میں کاشت کریں کیونکہ موسم کی گرمی سے زمین کی اوپر والی سطح میں نمی کم ہونے سے ننھے پودے کو نقصان ہوگا۔
فرٹیلائزر پلان
زمین کی تیاری کے وقت 2 سے 3 بیگ فی ایکڑ مارک6 کھاد، 2 بیگ بی او پی بمسی، 1 بیگ سلفر کوٹڈ نائٹروفاس تیزابی اور آدھا بیگ ہائبرڈ ایس او پی لیتھل زمین پر چھٹہ کر کے زمین تیار کریں اور فصل کاشت کر دیں، پھر پہلے پانی کے ساتھ 1 بیگ یوریا دے دیں۔ دوسرے پانی پر 5 کلوگرام سلفوتار پلس (80 فیصد سلفر) ضرور استعمال کریں۔
یہ فرٹیلائزر پلان لگانے کے بعد ڈی اے پی لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ 2 بیگ بی او پی اور 1 بیگ سلفرکوٹڈ نائٹروفاس میں 1 بیگ ڈی اے پی سے زیادہ طاقت ہے۔ ان کھادوں میں ڈی اے پی کے مقابلے میں فاسفورس اور نائٹروجن کی مقدار زیادہ ہے اور زمین کو زرخیز کرنے والا نامیاتی مادہ بھی موجود ہے جو ڈی اے پی میں نہیں ہوتا۔ ویسے بھی ڈی اے پی کی آدھی مقدار زمین میں جا کر پتھر بن جاتی ہے اور پودوں کو دستیاب ہی نہیں ہوتی۔ اگر ڈی اے پی کا ایک بیگ 14 ہزار روپے کا ہو اور آدھا بیگ زمین میں جا کر پتھر بن جائے تو یہ آپ کو ایک بیگ 28 ہزار روپے کا پڑ گیا، جس پر ستم ظریفی یہ کہ چند ایک ڈیلروں کو چھوڑ کر پاکستان کے اکثر ڈیلر کسانوں کو دو نمبر اور جعلی ڈی اے پی فروخت کر رہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں 2 بیگ بی او پی بمسی اور 1 بیگ سلفرکوٹڈ نائٹروفاس تیزابی، یہ تینوں بیگ تقریباً 10 ہزار روپے کے پڑتے ہیں اور سارے کے سارے پودوں کو دستیاب ہوتے ہیں یعنی زمین میں جا کر پتھر نہیں بنتے اور یہ ڈی اے پی کا انتہائی سستا اور طاقتور متبادل ہیں۔
یاد رہے کہ اگر ہائبرڈ مُکا پوٹاش ایس او پی زمین کی تیاری کے دوران نہ ڈال سکیں تو پھول نکلنے سے دو ہفتے پہلے فلڈ کر دیں، انشاءاللہ پھلیاں لمبی، موٹی، وزنی اور دانے چمکدار بنیں گے۔ اس کے علاوہ پھلیاں پھٹ کر دانے زمین پر نہیں گریں گے۔ اگر آپ نے کینولہ، سرسوں اور رایا بارانی علاقوں میں کاشت کرنا ہے تو یوریا سمیت ساری کھادیں زمین کی تیاری کے وقت ہی ڈالیں۔
آبپاشی
پہلا پانی بوائی کے ایک ماہ بعد، دوسرا پانی پہلے پانی کے 25 تا 30 دن بعد، تیسرا پانی پھول بنتے وقت اور چوتھا پانی پھلیوں میں بیج بنتے وقت لگائیں۔ موسمی حالات اور بارش کو مدِنظر رکھتے ہوئے پانی کی مقدار اور وقفے میں کمی بیشی لائی جا سکتی ہے تاہم پھول سے بیج بننے کا مرحلہ انتہائی اہم ہوتا ہے، اس وقت فصل میں پانی کی کمی براہِ راست پیداوار پر اثر انداز ہوتی ہے۔
کین30 لیکوئیڈ پوٹاش اور بائیو سٹیمولینٹ اینٹی فراسٹ لیتھل کا سپرے
کورا پڑنے سے دو تین ہفتے پہلے کین30 لیکوئیڈ پوٹاش اور بائیو سٹیمولینٹ اینٹی فراسٹ لیتھل ایک ایک لٹر میں 2 کلوگرام یوریا کھاد مکس کر کے 100 لٹر پانی میں حل کر کے فصل پر سپرے کر دیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ فصل کورے کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے گی اور کورے کی وجہ سے فصل کی بڑھوتری نہیں رکے گی، پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ بھی ہوگا۔
جڑی بوٹیوں کی تلفی
بوائی کے ڈیڑھ سے دو ماہ بعد یا پھر پہلے پانی کے بعد وتر آنے پر گوڈی کرنے سے جڑی بوٹیوں کو کامیابی سے ختم کیا جا سکتا ہے جس سے پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ لیکن سب سے بہتر یہ ہے کہ بوائی کے فوراً بعد 24 گھنٹے کے اندر اندر زرعی ماہرین کی مشاورت سے پینڈی میتھالین یا کوئی اور زرعی زہر سپرے کر دی جائے تاکہ جڑی بوٹیاں نہ اگیں۔
اس کے علاوہ جڑی بوٹیوں کی تلفی کا ایک پرانا طریقہ بھی ہے کہ فصل کی کاشت سے پہلے زمین کو پانی لگا کر چھوڑ دیں، اس طرح تمام جڑی بوٹیاں اگ آئیں گی۔ جب جڑی بوٹیاں دو دو تین تین پتے نکال لیں تو اس پر ہل چلا دیں، اس طرح تمام جڑی بوٹیاں زمین سے جڑوں سمیت اکھڑ جائیں گی۔ ان کو چند دن دھوپ لگنے دیں تاکہ اچھی طرح خشک ہو جائیں، پھر ہل چلا کر راونی کر کے تر وتر میں فصل کاشت کر دیں۔ اس طریقہ سے فصل جڑی بوٹیوں سے محفوظ رہے گی۔
کیڑے مکوڑے اور ان کا انسداد
فصل کے اُگاؤ کے مرحلے پر ٹوکا حملہ آور ہوتا ہے جو کہ ناقابلِ تلافی حد تک نقصان کر سکتا ہے۔ اس کے بچاؤ کیلئے تین دن کے اندر کیڑے مار دوا کا چھڑکاؤ کریں۔ فصل پر تیلے کے حملے کی صورت میں مقامی زرعی ماہرین کی مشاورت سے زرعی زہر کا سپرے کریں۔
بیماریاں اور ان کا کنٹرول
ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کی فصل میں کئی طرح کی بیماریاں لگ سکتی ہیں جن میں سے چند اہم بیماریاں اور ان کے کنٹرول کے طریقے درج ذیل ہیں:
بلائیٹ
یہ بیماری ایک فنگس کی وجہ سے پھیلتی ہے جس سے پتوں، تنوں اور پھلیوں پر کالے یا بھورے دھبے نمودار ہوتے ہیں۔ اس کے کنٹرول کیلئے فصل کی جڑی بوٹیوں سے اچھی طرح صفائی کریں اور متاثرہ پودوں کو تلف کریں۔ فصل میں ہوا کی مناسب گزرگاہ رکھیں تاکہ نمی کم رہے۔ مقامی زرعی ماہرین کی مشاورت سے فنجی سائیڈز کا استعمال کریں۔ مناسب اقسام کا انتخاب کریں جو بلائیٹ کے خلاف قوتِ مدافعت رکھتی ہوں۔
پاؤڈری ملڈیو
اس بیماری میں پتوں پر سفید پاؤڈر جیسا مواد نظر آتا ہے جس کی وجہ ایک فنگس ہے۔ اس کے کنٹرول کیلئے قوتِ مدافعت رکھنے والی اقسام کاشت کریں۔ فصل میں ہوا کی گزرگاہ رکھیں اور زیادہ نمی سے بچیں۔ فنجی سائیڈز کا استعمال کریں۔
وائرسی بیماریاں
اس بیماری میں پتے پیلے یا ہلکے سبز ہو جاتے ہیں، پودے کا بڑھنا رک جاتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ ایک وائرس ہے جس کے کنٹرول کیلئے متاثرہ پودوں کو تلف کریں تاکہ وائرس مزید نہ پھیلے۔ ویکٹرز یعنی میزبان پودوں اور کیڑوں کو کنٹرول کریں جو وائرس پھیلاتے ہیں۔ اس بیماری کے کنٹرول کیلئے صرف قوتِ مدافعت والی اقسام کاشت کریں۔
تنے کی سڑن (سٹیم راٹ)
اس بیماری کی علامات میں تنے کے گرد گلابی یا بھورا رنگ کا مواد نظر آتا ہے اور تنا کمزور ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ ایک فنگس ہے جس کے کنٹرول کیلئے فصل کی اچھی طرح صفائی کریں اور متاثرہ پودوں کو تلف کریں۔ فصل میں ہوا کی مناسب گزرگاہ رکھیں تاکہ نمی کم رہے۔ اس بیماری کے کنٹرول کیلئے فنجی سائیڈز کا استعمال کریں۔
جڑ کی سڑن
اس بیماری میں پودوں کی جڑیں گل جاتی ہیں اور پودا مرجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ ایک فنگس ہے جس کے کنٹرول کیلئے اچھی نکاسیِ آب والی زمین کا انتخاب کریں تاکہ فصل میں پانی کھڑا نہ ہو۔ مناسب اقسام کا انتخاب کریں اور زرعی ماہرین کی مشاورت سے فنجی سائیڈز کا استعمال کریں۔
سفید رسٹ
سرسوں، رایا اور ہائبرڈ کینولہ پر اس بیماری کا حملہ ہو سکتا ہے اور یہ پیداوار میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ ٹہنیوں، پھولوں اور پھلیوں پر سفید رنگ کا پاؤڈر نما مواد ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے نمک لگا ہوا ہو۔ ہاتھ لگانے پر یہ پاؤڈر ہاتھوں پر لگ جائے گا اور پھول و پھلیاں مڑی ہوئی نظر آئیں گی۔
یہ پھپھوند (فنگس) سے پیدا ہونے والی بیماری ہے جس کے سپور (بیج) زمین میں رہتے ہیں اور ہوا کی مدد سے ایک پودے سے دوسرے پودے پر جاتے ہیں۔ یہ بیماری ٹکڑیوں کی صورت میں پھیلتی ہے۔ جب درجہ حرارت کم ہو، ہوا میں نمی، دھند یا شبنم اس کے پھیلاؤ کو تقویت دیتی ہے، ایسے موسم میں فصل کی نگرانی لازمی کریں۔ شروع میں اگر حملہ معلوم ہو جائے تو ایسے پودے جو بیمار ہوں، جن پر علامات ظاہر ہوں، وہ کاٹ کر کھیت سے کہیں دور تلف کر دیں۔
اگر اس بیماری کا حملہ زیادہ ہو جائے اور معاشی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو تو کاشتکار پھپھوند کش زہروں مثلاً ڈائی فینا کونازول، ہیگزاکونازول، ایپوکسیکونازول، ٹریڈی میڈیمول، پروپیکونازول، میٹکونازول، سائپرکوناز، ٹیبکوونازول میں سے کسی ایک دوائی کا استعمال کر کے کنٹرول کر سکتے ہیں۔
وقتِ برداشت
عام طور پر مشاہدے میں آیا ہے کہ فارمر حضرات فصل کی برداشت یا تو وقت سے پہلے کر لیتے ہیں یا وقت گزرنے کے بعد، جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ مناسب وقت پر برداشت کیلئے درج ذیل سفارشات کو مدِنظر رکھیں:
- اگر 40 فیصد بیج بھورے ہوں اور باقی 60 فیصد سبزی مائل ہوں تو فصل کاٹ کر کھلیان میں پھیلا دیں اور 8 سے 10 دن تک دھوپ میں خشک ہونے دیں۔
- خشک کی گئی فصل کی ٹریکٹر یا بیلوں کی مدد سے گہائی کر لیں۔
- اگر رقبہ زیادہ ہے تو باریک چھاننی کی مدد سے دانے تھریشر سے نکال لیں اور جب نمی 10 فیصد تک رہ جائے تو بیج کو صاف کر کے بوریوں میں بھر لیں۔
کماد کے ساتھ مخلوط کاشت
ہائبرڈ کینولہ، سرسوں اور رایا کو ستمبر کاشت کماد کے ساتھ بطور مخلوط فصل کاشت کیا جا سکتا ہے جہاں قطار سے قطار کا فاصلہ اڑھائی فٹ ہو، وہاں کماد کی ایک قطار چھوڑ کر اس میں کینولہ، سرسوں اور رایا کاشت کیا جائے۔ تاہم کماد یا کسی اور فصل میں مخلوط کاشت کی صورت میں کینولہ، سرسوں یا رایا کی ایسی ورائٹی کا انتخاب کیا جائے جو چھوٹے قد کی ہو، مثلاً آری کینولہ۔ اس طرح ایک ایکڑ کماد میں آدھا ایکڑ آری کینولہ کاشت ہوگا اور کماد کی فصل پر بھی کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ چھوٹے قد کی ورائٹی ہے اور جنوری فروری میں پک کر تیار ہو جاتی ہے۔ یوں کماد کے ساتھ آری کینولہ کی مخلوط کاشت سے اچھا خاصا منافع ہو سکتا ہے۔
اگر آپ اس مضمون میں تجویز کردہ مارک6 کھاد، ہائبرڈ ایس او پی لیتھل، کین30 لیکوئیڈ پوٹاش یا بائیو سٹیمولینٹ اینٹی فراسٹ لیتھل منگوانا چاہتے ہیں تو واٹس ایپ نمبر 03226780242 پر رابطہ کریں۔
