Kisanworld Urdu Blogs

گلگت بلتستان میں زراعت کا روشن مستقبل | کسانوں کے لیے قابل عمل سفارشات

گلگت بلتستان کے منفرد موسمی حالات اور زرخیز وادیوں میں زراعت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ جانیے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہتر پالیسیوں سے کسانوں کی آمدنی میں کیسے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

Agriculture in Gilgit Baltistan - Beautiful farming landscape and mountains tگلگت بلتستان میں زراعت اور خوبصورت کھیت
گلگت بلتستان قدرت کا ایک نادر تحفہ ہے۔ یہاں برف پوش پہاڑ، گلیشیئرز سے نکلنے والا شفاف پانی، صاف ماحول، زرخیز وادیاں اور منفرد موسمی حالات ایسے زرعی وسائل ہیں جو دنیا کے بہت کم خطوں کو میسر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کی زراعت روایتی زراعت نہیں بلکہ ایک خصوصی  نظام ہے، جس کیلئے الگ پالیسی، الگ تحقیق، الگ سرمایہ کاری اور الگ ترقیاتی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں میں زراعت کبھی بھی حکومتوں کی اولین ترجیح نہیں بن سکی۔ ترقیاتی بجٹ کا بڑا حصہ دیگر شعبوں پر خرچ ہوتا رہا جبکہ وہ شعبہ، جس سے دیہی آبادی کی اکثریت وابستہ ہے، مسلسل نظر انداز ہوتا رہا، نتیجتاً کسان کی آمدنی محدود رہی، نوجوان زراعت سے دور ہوتے گئے اور زرعی معیشت اپنی حقیقی استعداد تک نہ پہنچ سکی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر گلگت بلتستان میں غربت کم کرنی ہے، نوجوانوں کیلئے روزگار پیدا کرنا ہے، خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا ہے، غذائی تحفظ یقینی بنانا ہے اور دیہی معیشت کو مضبوط کرنا ہے تو اس کا سب سے مؤثر راستہ زراعت، باغبانی، لائیو سٹاک، فشریز، ویلیو ایڈیشن اور ایگرو ٹورازم کی مربوط ترقی ہے۔ آج ایک خوش آئند صورتحال یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان کے چیف منسٹر اور وزیر زراعت دونوں کا تعلق زرعی اور دیہی پس منظر سے ہے اور وہ کاشتکاروں کے مسائل اور زرعی معیشت کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہیں۔ اسی طرح سیکریٹری زراعت، لائیو سٹاک و فشریز گلگت بلتستان خود ایک زرعی گریجویٹ ہیں جو اس شعبہ کی تکنیکی ضروریات اور جدید تقاضوں سے واقف ہیں۔ اس لئے موجودہ حالات ایک سنہری موقع فراہم کرتے ہیں کہ زراعت کو حقیقی معنوں میں ترقیاتی ایجنڈے کی اولین ترجیح بنایا جائے اور ایک مؤثر، تیز رفتار اور نتائج پر مبنی اصلاحاتی پروگرام شروع کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی براہِ راست نگرانی میں سیکریٹری زراعت کی سربراہی میں ایک بااختیار گلگت بلتستان ایگریکلچر ٹاسک فورس قائم کی جائے جس میں محکمہ زراعت، لائیو سٹاک، فشریز، جامعات، نجی شعبہ، ترقیاتی ادارے اور کامیاب کسانوں کو شامل کیا جائے۔ اس ٹاسک فورس کو مناسب مالی وسائل، واضح اہداف اور تین سالہ ایگریکلچرل کریش پروگرام دیا جائے تاکہ مختصر مدت میں نمایاں نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ یہ پروگرام صرف روایتی فصلوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جدید، منافع بخش اور کلائمیٹ سمارٹ زراعت کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ سب سے پہلے ورٹیکل فارمنگ اور گرین ہاؤس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جائے تاکہ محدود رقبے سے کئی گنا زیادہ پیداوار اور آمدنی حاصل کی جا سکے۔پہاڑی علاقوں میں یہ ماڈل چھوٹے کسانوں کیلئے انتہائی موزوں ثابت ہو سکتا ہے۔اسی طرح جاپان کے کامیاب ون ولیج، ون پروڈکٹ ماڈل کو گلگت بلتستان میں متعارف کرایا جائے تاکہ ہر گاؤں اپنی ایک منفرد زرعی یا ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی شناخت قائم کرے اور مقامی معیشت مضبوط ہو۔ دنیا کے کئی ممالک، خصوصاً چین اور تھائی لینڈ نے ایگرو ٹورازم کو دیہی خوشحالی کا مؤثر ذریعہ بنایا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی ماڈل فارمز، فارم اسٹے، کسان مارکیٹس، فارم کیفے، اپنے ہاتھوں سے پھل توڑنے کی سرگرمیوں اور زرعی میلوں کو فروغ دے کر کسانوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔فلوریکلچر کو ایک نئی صنعت کے طور پر ترقی دی جائے۔ گلگت بلتستان میں عالمی معیار کے ٹیولپ گارڈنز، کٹ فلاور فارمز، لیلیم، گلیڈیولس، چائنا آسٹر، جربیرا اور دیگر تجارتی پھولوں کی پیداوار کو فروغ دیا جائے۔ اگر سری نگر کی طرز پر بڑے ٹیولپ گارڈنز قائم کئے جائیں تو یہ نہ صرف سیاحت بلکہ مقامی معیشت کیلئے بھی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔سیڈ پروڈکشن کو زرعی ترقی کا بنیادی ستون بنایا جائے۔ آلو، سبزیات اور پھولوں کے معیاری اور ہائبرڈ بیجوں کی مقامی پیداوار سے کسانوں کے اخراجات کم ہوں گے اور گلگت بلتستان قومی سطح پر ایک اہم سیڈ پروڈکشن زون بن سکتا ہے۔ اسی طرح کمرشل مشروم کلچر، سیری کلچر (ریشم کی پیداوار)، میڈیشنل (ادویاتی پودا جات) اینڈ ایرومیٹک پلانٹس کی تجارتی کاشت اور خوشبودار جڑی بوٹیوں کی برآمدی پیداوار کو خصوصی پروگراموں کے ذریعے فروغ دیا جائے۔ ویلیو ایڈیشن کے بغیر زرعی ترقی ادھوری ہے۔ خوبانی، چیری، سیب، شہتوت، انگور اور دیگر پھلوں سے جام، جیلی، جوس، خشک پھل، ہربل چائے، قدرتی کاسمیٹکس اور غذائی مصنوعات تیار کرنے کیلئے ہوم بیسڈ اور کاٹیج انڈسٹریز کو جدید مشینری، تربیت اور مارکیٹنگ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔ آف سیزن سبزیوں کی کاشت، ٹنل فارمنگ اور کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر کو وسعت دی جائے تاکہ کسان سال بھر آمدنی حاصل کر سکیں۔ اسی کے ساتھ ورمی کمپوسٹ، آرگینک فارمنگ اور قدرتی زرعی نظاموں کو فروغ دے کر گلگت بلتستان کو ایک آرگینک ایگریکلچر برانڈ کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ باغبانی کے شعبہ میں بھی نئی سوچ اپنانا ہوگی۔ ایسی جدید اور دیرپا اقسام متعارف کرائی جائیں جن سے پیداوار، معیار اور مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہو۔ خاص طور پر چیری کی ابتدائی، درمیانی اور دیر سے پکنے والی اقسام متعارف کروا کر چیری کا سیزن ایک ماہ کے بجائے تقریباً دو ماہ تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح بلیو بیری، کیوی فروٹ، خشک کرنے کے قابل جدید انجیر کی اقسام، اعلیٰ معیار کے انگور، اخروٹ، بادام اور دیگر ہائی ویلیو و مائنر فروٹس کی تجارتی بنیادوں پر کاشت کو فروغ دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ فوڈ سیکیورٹی کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گندم، جو، مکئی، بلیک ویٹ اور فوکس ٹیل باجرہ کے تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی، جدید زرعی مشاورت، آبپاشی کے مؤثر نظام اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زرعی تحقیق کو ترجیح دی جائے تاکہ خطہ غذائی لحاظ سے مزید مضبوط ہو سکے۔اگر حکومت، محکمہ زراعت، جامعات، نجی شعبہ، ترقیاتی شراکت دار اور کسان مل کر ایک واضح ویژن کے ساتھ کام کریں، مناسب فنڈز فراہم کئے جائیں اور 3 سالہ زرعی کریش پروگرام پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا جائے تو گلگت بلتستان نہ صرف پاکستان کا سب سے کامیاب ہائی ویلیو، کلائمیٹ سمارٹ، آرگینک اور ایگرو ٹورازم پر مبنی زرعی خطہ بن سکتا ہے بلکہ وسطی اور جنوبی ایشیا کیلئے ایک مثالی ماڈل بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ زراعت کو محض ایک محکمہ نہیں بلکہ گلگت بلتستان کی معیشت، دیہی خوشحالی، فوڈ سیکیورٹی اور پائیدار ترقی کا بنیادی ستون تسلیم کیا جائے۔ اگر آج درست فیصلے کئے گئے تو آنے والی نسلیں ایک خوشحال، خود کفیل اور زرعی طور پر مضبوط گلگت بلتستان کی وارث ہوں گی۔
Keep reading

Related articles